موسمیاتی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں چین اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے،چینی میڈیا 

بیجنگ (لاہورنامہ)اس سال ستمبر کے آخر تک، چین کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی نئی نصب شدہ صلاحیت ، ایک بار پھر  دنیا میں پہلے نمبر پر ہے  اور اس برتری کو اب  مسلسل 14 سال ہو گئے ہیں  جب کہ چین کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت مسلسل 13 سالوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جو کہ عالمی منڈی کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔  

اس وقت دنیا کی لگ بھگ نصف فوٹو وولٹک پاور جنریشن کی صلاحیت چین میں ہے، دنیا کی نصف سے زیادہ نئی توانائی کی گاڑیاں چین میں چل رہی ہیں، اور دنیا کے نئے گرین ایریا کا ایک چوتھائی حصہ چین  کا ے.

 ان اعداد و شمار کے ذریعے، یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دبئی میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کی 28ویں کانفرنس آف دی پارٹیز (COP28) میں چین کے کردار نے تمام فریقوں کی توجہ کیوں حاصل کی ہے ۔

 دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کے طور پر، چین نے پیرس معاہدے کی منظوری اور اس کے نفاذ  میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے مزید  کوششیں کر رہا ہے۔ 2022 میں، چین کے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 2005 کے مقابلے میں 51 فیصد سے زیادہ کمی آئی اور غیر فوسل توانائی کی کھپت کا تناسب 17.5 فیصد تک پہنچا۔

 اس کے ساتھ ساتھ، چین عالمی موسمیاتی نظم و نسق کو فعال طور پر فروغ دیتا ہے اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کو جنوب جنوب تعاون کے ذریعے  مدد فراہم کرتا ہے۔ اس سال جون کے آخر تک چین نے 39 ترقی پذیر ممالک کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 46 جنوب جنوب تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے تھے ۔ 

چین بہتر  عالمی آب و ہوا کی حکمرانی کا   علمبردار  کیوں بن گیا ہے؟  کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کا جواب دینا چین کی پائیدار ترقی  کی فطری ضرورت ہے۔ چینی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت “انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی” ہے۔ اس کے علاوہ   یہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے جسے ہر  ذمہ دار بڑے ملک کو پورا کرنا چاہیے۔

 سچ تو یہ ہے کہ چین ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کی آبادی بہت زیادہ ہے اور جہاں  توانائی کے وسائل کی نسبتاً کمی ہے۔اسے سبز تبدیلی اور اختراع کے عمل میں بہت سی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اتنے مختصر دورانیے میں  کاربن پیک سے کاربن نیوٹریلٹی تک پہنچنا ایک ایسا ہدف ہے جس کے لیے  چین کو سخت کوششوں کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے صرف چند ممالک کی کوششیں کافی نہیں  بلکہ اس میں مشترکہ  مگر مختلف ذمہ داریوں پر مبنی عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر، ترقی یافتہ ممالک کو کاربن اخراج کو نمایاں طور پر کم کرنے میں پیش پیش رہنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے  کے لیے مالی، تکنیکی اور صلاحیت سازی میں مدد فراہم کرنا چاہیے۔