ڈی کپلنگ

چین اور یورپی یونین کے درمیان ڈی کپلنگ مضحکہ خیز سوچ ہے،وولف گینگ

بیجنگ (لاہورنامہ) آسٹریا کے سابق چانسلر وولف گینگ شوسل نے گزشتہ 40 برسوں کے دوران چین کی ترقی کا مشاہدہ کرنے کے لئے متعدد  مرتبہ چین کا دورہ کیا ہے۔

ہفتہ کے روز  چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے  چین اور یورپی یونین کے درمیان “ڈی کپلنگ” کو   مضحکہ خیز  قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا  کہ ان کا چین کا پہلا دورہ 40 سال قبل ہوا تھا اور انہوں نے چین  کو پرامن طریقے سے ایک غریب ترقی پذیر ملک سے امریکہ اور یورپ کے برابر تین بڑی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس دوران  چین نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ چین دو سمتوں کی جانب ترقی کر رہا ہے، ایک طرف چین مقامی مارکیٹ کو فروغ دے رہا ہے، خاص طور پر ایک متحدہ قومی مارکیٹ کی تعمیر کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف  چین اعلی معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے زیادہ اعلی معیار کی مصنوعات تیار کر رہا ہے.

ان کے خیال میں چین کے پاس کامیابی کے اچھے امکانات ہیں کیونکہ مستقبل کے لیے سب سے اہم وسیلہ نوجوان نسل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو،  گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو چار انتہائی اہم انیشی ایٹوز ہیں.

اور یہ عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئے اہم کردار کی بھی عکاسی کرتے ہیں ، کیونکہ چین اس سلسلسے میں  سب سے بڑے اور سب سے اہم شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

آسٹریا کے سابق چانسلر کا کہنا ہے کہ گلوبلائزیشن اور بین الاقوامی تعاون ترقی کی کلید ہیں کیونکہ  یہ ہمیں خوشحال بناتے ہیں اور پرامن طریقے سے تعاون کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، اصل خطرہ یہ ہے کہ تحفظ پسندی اور پابندیوں کی طرف رجحان زیادہ سے زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے.

“ڈی کپلنگ” کا خیال مضحکہ خیز ہے کیونکہ یہ ہمیں غربت کی جانب لے جاتا  ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے رواں سال موسم بہار  میں کیے گئے ایک مطالعے  میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ اور چین ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے تو عالمی جی ڈی پی کو 7 فیصد تک کا بڑا نقصان ہوگا .

جو 2007-2008 کے مالیاتی بحران اور کرونا وبا  کے مشترکہ نقصان سے بھی  زیادہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ چین، یورپ اور امریکہ کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ غریب ممالک کو اپنے مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔اچھے رہنما عالمی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے   نہ صرف مسائل کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ مثبت اور تعمیری حل بھی تلاش کرتے ہیں۔