انسانی حقوق کے تحفظ

بی آر آئی  انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینے کا   راستہ ہے، رپورٹ

بیجنگ (لاہورنامہ) چین نے “بہتر دنیا کے لیے: انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے گزشتہ دہائی میں “بیلٹ اینڈ روڈ  انیشی ایٹوکے عنوان سے ایک تھنک ٹینک رپورٹ جاری کی، جس  سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے عملی اقدامات سے دنیا کے انسانی حقوق کے عمل کو مالا مال کیا ہے.

دنیا میں انسانی حقوق کی ترقی کے لئے چینی دانش سے فراہم کیے ہیں، اور ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو افراتفری کا سامنا ہے، انسانی حقوق کی ترقی کی مربوط قوت کو بڑھا دیا ہے ۔ 

 چین کے صدر شی جن پھنگ نے یہ تصور پیش کیا کہ بقا  کا حق اور ترقی کا حق بنیادی انسانی حقوق ہیں، لوگوں کی خوشگوار زندگی سب سے بڑا انسانی حق ہے، اور ترقی انسانی حقوق کو فروغ دیتی ہے۔ یہ تصور “بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر میں شامل ہے  ۔

گزشتہ دہائی کے دوران ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نفاذ نے  شراکت  دار  ممالک کی معاشی ترقی کو فروغ دیا ہے ، لوگوں کے ذریعہ معاش کو فائدہ پہنچایا ہے ، بہت سے ممالک کو  اپنے مشکلات سے باہر نکلنے میں مدد کی ہے ، اور لوگوں کے گزر بسر اور ترقی کے حق کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کی وسیع رینج کو حاصل کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ” بیلٹ اینڈ روڈ ”  تعاون کے ذریعے  چین نے 70 سے زائد ممالک اور خطوں میں 2,000 سے زائد زرعی ماہرین اور تکنیکی ماہرین بھیجے ہیں اور بہت سے ممالک میں 1500 سے زائد زرعی ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا ہے۔

اس کے علاوہ  بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے منصوبوں کی ایک بڑی تعداد پر عمل درآمد کیا گیا ہے ، جس سے مقامی پیداوار اور رہن سہن کے حالات اور ترقیاتی ماحول میں بہتری آئی ہے ، بڑی تعداد میں روز گار کے مواقع  پیدا ہوئے ہیں ، اور بے شمار  لوگوں کو غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔

عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 تک ” بیلٹ اینڈ رود ” سے متعلق سرمایہ کاری  کے شراکت دار   ممالک میں 7.6 ملین افراد کو انتہائی غربت سے اور 32 ملین افراد کو معتدل غربت سے نکالنے کی توقع ہے۔ پاکستان اسلام آباد  انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیسی کے ڈائریکٹر محمد آصف نور کا خیال ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے نقطہ نظر سے ، “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو کے متعدد کردار ہیں۔ 

سب سے  اہم  بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی پر اس کی توجہ ہے، جو غربت کے تیزی سے خاتمے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے ، جو انسانی حقوق کی حکمرانی کی کلید ہے.

ترقی کا حق ایک بنیادی انسانی حق بن گیا ہے جسے بین الاقوامی برادری نے تسلیم کیا ہے اور لوگوں کی خوشحالی کے حصول  کی کلید ہے۔ “بیلٹ اینڈ روڈ “انیشی ایٹو غربت کے خاتمے، روزگار میں اضافے اور لوگوں کے ذریعہ معاش کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے.

  تاکہ  بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ثمرات  شریک ممالک کے عوام کو بہتر طور پر فائدہ پہنچا سکیں اور مقامی معاشی اور سماجی ترقی اور انسانی حقوق کی ترقی میں ٹھوس کردار ادا کرسکیں۔ اخبار  پاکستان آبزرور  نے اپنی ویب سائٹ پر رپورٹ  دی ہے کہ “چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ امن کا راستہ ہے، حقیقی معنوں میں انسانی حقوق کی ترقی اور عالمی غربت کو دور کرنے کا درست راستہ ہے ۔”

عالمی انسانی حقوق  کی ترقی میں چین کی انتھک کوششوں اور اہم کردار کو بین الاقوامی برادری نے دیکھا ہے اور اس کی مکمل تصدیق اور اسے انتہائی سطح پر  تسلیم کیا گیا ہے۔ رواں برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس میں چین چھٹی بار انسانی حقوق کونسل کا رکن بنا اور سب سے زیادہ منتخب ممالک میں سے ایک بن گیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 54 ویں اجلاس میں “عدم مساوات کے خاتمے کے تناظر میں معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے فروغ اور تحفظ” سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جسے چین کی قیادت میں  پاکستان سمیت 80  ممالک کی مشترکہ  معاونت  سے پیش کیا گیا، جو اس بات کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے کہ چین عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی میں زیادہ سے زیادہ  اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اب بین الاقوامی برادری  میں اپنی  جڑیں گہری کر  چکا ہے اور “بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر  تعاون کے ذریعے ترقی  اور ترقی کے ذریعے تحفظ  انسانی حقوق  کو فروغ دینے  کا عملی راستہ بن گئی ہے ۔ 

“بیلٹ اینڈ روڈ “انیشی ایٹو  ایک ایسا راستہ ہے جو امن و سکون، مشترکہ ترقی کی جستجو، اور  بہتر زندگی کی خواہش کے لیے لوگوں کی توقعات پر پورا اترتا ہے۔واضح رہے کہ 10 دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن منا یا گیا ہے.