ایک چین کے اصول

ایک چین کے اصول کو چیلنج کرنا ناممکن ہے ،چو فینگ لین 

بیجنگ (لاہورنامہ) چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کی باقاعدہ پریس کانفرنس میں ترجمان چو فینگ لین نے نشاندہی کی کہ یکم دسمبر 1943 کو چین ، امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے “قاہرہ اعلامیہ” جاری کیا ، جس میں واضح طور پر طے کیا گیا تھا کہ “جاپان کی طرف سے چین سے چوری کیے گئے علاقے ، جیسے منچوریا ، تائیوان اور پینگھو جزائر ، چین کو واپس کردیئے جائیں گے۔ ”

قاہرہ اعلامیہ تائیوان اور اس سے ملحقہ جزیروں کی چین کو بازیابی کے لئے ایک اہم بین الاقوامی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے ، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی عسکریت پسندوں نے لوٹے اور چوری کیے تھے ، اور یہ ایک اہم بین الاقوامی قانونی دستاویز ہے جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔

تائیوان اور بین الاقوامی سطح پر کچھ طاقتوں کی طرف سے نام نہاد نظریہ کہ” تائیوان کی حیثیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے” دوسری جنگ عظیم کے بعد  قائم بین الاقوامی نظام کے لئے ایک چیلنج ہے۔ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے جس کی ناقابل تردید تاریخی حقیقت اور قانونی بنیاد ہے اور اسے بین الاقوامی برادری نے بھی وسیع پیمانے پر تسلیم کیا ہے۔

کوئی بھی ایسا اقدام جو قاہرہ اعلامیے سمیت بین الاقوامی قانونی دستاویزات کو نظر انداز کرتا ہے اور ایک چین کے اصول کی نفی کرتا ہے اور اسے چیلنج کرتا ہے، کامیاب نہیں ہوگا۔وا ضح رہے کہ یکم دسمبر قاہرہ اعلامیے کی 80 ویں سالگرہ ہے۔