چین ویتنام تعلقات

چین ویتنام تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید بہتر ہو رہے ہیں، شی جن پھنگ

ہنو ئی (لاہورنامہ) چین کے صدر شی جن پھنگ نے ویتنام کے وزیر اعظم فام من چن سے ہنوئی میں ویتنام کے حکومتی ایوان میں ملاقات کی۔

بدھ کے روزشی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین ویتنام تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید بہتر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے سی پی وی کے جنرل سیکریٹری نگوین فو ٹرونگ کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی.

جس سے چین ویتنام تعلقات کی وسعت اور گہرائی کی مکمل عکاسی ہوتی ہے۔ چین اور ویتنام کی معیشتیں ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتی ہیں اورفریقین کے درمیان قریبی اقتصادی روابط ہیں۔ فریقین کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور “دو راہداریاں اور ایک سرکل” اسٹریٹجک ہم آہنگی کے منصوبے پر دستخط سے دونوں ممالک کے لئے عملی تعاون کو وسعت دینے کے لئے نئی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

شی جن پھنگ کا کہنا ہے کہ چین ویتنام سے اعلی معیار کی مصنوعات کی درآمدات کو وسعت دینے، ویتنام کے ساتھ صنعتی اور سپلائی چین، بنیادی ڈھانچے اور مواصلات کو مضبوط بنانے اور نئی توانائی اور ڈیجیٹل معیشت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

فام من چن نے کہا کہ گزشتہ روز دونوں پارٹیوں کے جنرل سیکریٹریزنے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ویتنام چین ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی جو نئی پوزیشن قائم کی ہے، وہ دونوں سیاسی جماعتوں اور دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے، اور ویتنام چین تعلقات کے مستقبل کی سمت کی نشاندہی کرتی ہے.

ویتنام اور چین کے تعلقات وقت اور تاریخ کی آزمائشوں پر پورا اترے ہیں اور کسی بھی بیرونی طاقت کی اشتعال انگیزی اور مداخلت سے متاثر نہیں ہوں گے۔یقین ہے کہ ویتنام چین ہم نصیب معاشرے کی تعمیر سے دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچیں گے اور یہ خطے کے امن اور خوشحالی کے لئے بھی مددگار ثابت ہوگی ۔