آج بھی چین ہے

آج بھی چین ہے ،کل بھی “چین” ہوگا

بیجنگ (لاہورنامہ) “جیسا کہ کاروباری برادری کے دوستوں نے کہا ہے، چین سرمایہ کاری کی بہترین منزل کا مترادف بن گیا ہے۔ آج بھی چین ہے کل بھی ‘چین’ ہوگا” ۔

حال ہی میں منعقدہ  اپیک  بزنس لیڈرز سمٹ میں اپنی  تحریری تقریر میں چینی  صدر شی جن پھنگ کے ریمارکس نے چین کی ترقی کے امکانات پر بین الاقوامی برادری کے پختہ اعتماد کا اظہار کیا۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی چائنا سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں شی جن پھنگ نے ایک اہم تقریر کی، جس میں 2023 میں معاشی کام کا جامع جائزہ لیا گیا، موجودہ معاشی صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا، اور 2024 میں معاشی کام کا منظم طریقے سے بندوبست کیا گیا۔

بین الاقوامی برادری نے ہر سال کے آخر میں منعقد ہونے والی چین کی اس اعلیٰ سطحی اقتصادی ورک کانفرنس سے سامنے آنے والی معلومات سے محسوس کیا ہے کہ چین کی ترقی کے لیے سازگار حالات ناسازگار عوامل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں، چین کی معیشت لچکدار ہے.

اس میں کافی صلاحیت ہے، حکمت عملی کی ایڈجسٹمنٹ کی وسیع گنجائش ہے، اور طویل مدتی مثبت بنیادیں تبدیل نہیں ہوئی ہیں اور تبدیل نہیں ہوں گی، یہ کہا جا سکتا ہے آج بھی چین ہے کل بھی “چین” ہوگا اور بہتر چین ہوگا، جو  زیادہ مستحکم، مضبوط اور زیادہ خوشحال ہوگا۔

2023 ء پر نظر ڈالیں تو ظاہر ہے کہ  چین کی معیشت میں تیزی اور بہتری کا سلسلہ جاری رہا اور دنیا کی بڑی معیشتوں کے درمیان  چین نمایاں شرح نمو برقرار رکھے ہوئے ہے اور چین  سال بھر عالمی اقتصادی نمو میں ایک تہائی حصہ ڈالے گا اور عالمی ترقی کا سب سے بڑا انجن رہے گا۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی  کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ انویسٹمنٹ رپورٹ 2023 کے مطابق 2022 میں عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  میں 12 فیصد کمی آئی جبکہ چین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی رقم میں اس منفی رجحان کے برعکس  5 فیصد اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  نے حال ہی میں رواں سال اور اگلے سال چین کی اقتصادی ترقی کے بارے میں اپنی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔

متعدد بین الاقوامی مالیاتی ادارے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جو چین کی معیشت پر دنیا کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، اور طویل مدتی مستحکم ترقی کے حصول میں چین کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور مسلسل نئی ترقی کے ساتھ دنیا کے لیے نئی رفتار اور نئے مواقع لاتا ہے.

یقیناً، چین کا اعتماد اندھا دھند نہیں ہے، بلکہ ملکی اور غیر ملکی ماحول اور حالات کی سنجیدہ تفہیم اور تجزیے پر مبنی ہے. رواں سال تین سال کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے بعد معاشی بحالی اور ترقی کا پہلا  سال ہے۔ اس حوالے سے چینی رہنما شی جن پھنگ نے کہا:” وبا کی روک تھام اور کنٹرول  کے عرصے سے  منتقلی کے بعد معاشی بحالی لہر جیسی ترقی اور نیشب و فراز کی حامل ترقی کا عمل ہوگی”۔

“ہمارے ملک کی معاشی بحالی ابھی بھی ایک نازک مرحلے میں ہے”۔ اس سال کی سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں بہت سے “ناسازگار عوامل” جیسے ناکافی موثر طلب، کچھ صنعتوں میں حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت ، کمزور سماجی توقعات اور اب بھی بہت سے پوشیدہ خطرات پر درست فیصلے کیے گئے اور ان فیصلوں کی بنیاد پر معاشی ترقی سے متعلق تمام پہلوؤں کے لئے جامع اور منظم انتظامات کیے گئے ہیں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ چین کی سالانہ سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس نہ صرف چین کی معشیت کے حوالے سے ایک  اجلاس ہے بلکہ عالمی اقتصادی ترقی اور مستقبل سے متعلق ایک اہم اجلاس بھی ہے۔ یہاں سے چین نہ صرف ترقی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے دنیا کو نئے خیالات اور تصورات فراہم کرتا ہے .

بلکہ اس کی جانب سے  ایک نیا ذخیرہ الفاظ بھی سامنے آیا  ہے جو چینی دانش مندی سے جگمگاتا ہے ، جو مسلسل انسانیت کی خوشحالی کی تلاش ،جستجو  اور اظہارخیالات  کو مالا مال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں استعمال ہونے والی اصطلاح “نئے معیار کی پیداواری صلاحیت” دراصل ایک نیا تصور ہے جو سب سے پہلے اس سال ستمبر میں صدر شی جن پھنگ نے پیش کیا تھا، یعنی ایک نئی قسم کی پیداواری صلاحیت جو نئی ٹیکنالوجیز کی نمائندگی کرتی ہے.

، نئی قدر پیدا کرتی ہے، نئی صنعتوں کے مطابق ڈھلتی ہے، اور نئی قوت محرکہ کو تشکیل دیتی ہے۔ یہ کلیدی لفظ، جو چین کے اقتصادی کاموں کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے، بہت سے لوگوں کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے کہ اسے چین کے سال کے ٹاپ ٹین بز ورڈز میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا جائے، جو  مصنوعی ذہانت کے بگ ماڈلز، دو طرفہ رننگ، ولیج سپر ٹورنامنٹس اور اسپیشل فورسز ٹورازم کے ساتھ ساتھ زبان زدعام  لفظ بن گیا ہے۔

“نئے معیار کی پیداواری صلاحیت” واضح طور پر جدت طرازی کو جدید صنعتی نظام کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے پہلی محرک قوت کے طور پر لینا ہے، جو مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لئے چین کے بنیادی فیصلے اور تعیناتی کی عکاسی کرتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے الفاظ نہ صرف چین میں زبان زد عام  الفاظ بنیں گے، بلکہ پوری انسانیت کے لئے نئے الفاظ ، نیا تصور اور نئی محرک قوت بنیں گے، جن میں ایک ہم آہنگ دنیا، “بیلٹ اینڈ روڈ”، بنی نوع انسان کا ہم نصیب معاشرہ ، اور ایک نئی قسم کے بین الاقوامی تعلقات شامل ہیں، جو دنیا کے لئے ایک نئی امید اور ایک نیا مستقبل لائیں گے.

آج بھی چین ہے، کل بھی “چین” ہوگا اور زیادہ بہتر چین ہوگا.