بڑی زراعت اور بڑی خوراک

چینی صدر کا “بڑی زراعت اور بڑی خوراک”  کا تصور 

بیجنگ (لاہورنامہ) چین ایک بڑا زرعی ملک ہے ، جس کی زرعی آبادی 700 ملین ہے ، جو چین کی کل آبادی کا 50.1فیصد بنتی ہے۔ زراعت، دیہی علاقوں اور کسانوں کے معاملات کو “تین دیہی” معاملات کہا جاتا ہے اور یہ چین کی معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی خوشحالی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

لہٰذا  تین دیہی معاملات کا بہتر انداز میں انجام دینا  حکمران جماعت اور ملک کے لیے ایک بڑا معاملہ بن گیا ہے۔ چین کی حکمران جماعت کی جانب سے  سینٹرل  رورل ورک کانفرنس 19 سے 20 دسمبر تک بیجنگ میں منعقد ہوئی۔

چین کے سپریم رہنما شی جن پھنگ نے چین کے “تین دیہی معاملات” کے حوالے سے اہم ہدایات دیتے ہوئے  بڑی زراعت  اوربڑی خوراک کا  تصور قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔آخر یہ بڑی زراعت اور بڑی خوراک کا تصور کیا ہے؟ 

“بڑی زراعت” سے مراد جدید زراعت ہے ، جو روایتی زراعت کے مقابلے میں  جدید سائنس اور ٹیکنالوجی ، جدید صنعتوں اور  سائنسی انتظام کے طریقوں کو وسیع طور پر لاگو کرتی ہے۔ 

“بڑی خوراک کا تصور” “قابل کاشت زمین، گھاس کے میدانوں، جنگلات اور سمندروں، پودوں، جانوروں اور مائکروجینز سے کیلوری اور پروٹین کی تلاش، اور خوراک کے وسائل کو ہمہ جہت اور کثیر چینل طریقے سے تیار کرنے” کا ایک تصور ہے.

یہ زراعت میں سپلائی سائیڈ کی اصلاحات کو فروغ دینے کی چین کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ “بڑی خوراک  کے تصور” کی بنیاد اناج ہے.چین  ایک بڑی آبادی والا ملک  ہے۔ حکمران جماعت نے ہمیشہ اناج کی پیداوار اور اہم زرعی مصنوعات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی ہے.

جن میں سویابین اور تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، بڑے اور چھوٹے گوشت اور ڈیری کی پیداوار میں تیزی لانا اور ماہی گیری کی ترقی کے معیار کو بہتر بنانا وغیرہ یہ سب “بڑی خوراک کے تصور” کے ٹھوس مظاہر ہیں۔