فیکٹریز لگانے کا منصوبہ

عالمی کمپنیوں نے  امریکہ میں  فیکٹریز لگانے کا منصوبہ   ختم کر  دیا، چینی میڈ یا

واشنگٹن  (لاہورنامہ)  ٹیسلا کو بیٹری  فراہم کرنے والی   جاپان کی مشہور کمپنی  پیناسونک کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی ریاست  اوکلاہوما میں بیٹری فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔ رواں سال جنوبی کوریا کی ایل جی،  چین کے تائیوان کی ٹی ایس ایم سی اور جاپان کی ہونڈا کمپنی  سمیت متعدد بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنیوں نے امریکہ میں فیکٹریاں تعمیر کرنے کے اپنے منصوبوں کو ترک یا ملتوی کر دیا ہے۔

منگل کے روز چینی نشریاتی ادارے کے مطابق  امریکی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی سلسلہ وار مراعات اور سبسڈیز  کے باوجود  کمپنیز کے ان فیصلوں کی وجہ کیا ہے ؟

 کاروباری اداروں کے لئے ، کسی جگہ پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے  لاگت ، مقامی مارکیٹ اور میکرو ماحول پر غور کرنا ضروری  ہوتاہے۔لاگت کے حوالے سے دیکھیں تو  پیناسونک کے مطابق اس وقت کنساس میں زیر تعمیر پلانٹ کی لاگت توقع سے  زیادہ ہے۔

ہونڈا کے سی ای او نے یہ بھی تسلیم کیا کہ  امریکہ میں فیکٹری کی تعمیر ترک کرنے میں لاگت ایک اہم عنصر تھی۔ متعلقہ ماہرین نے نشاندہی کی کہ بیٹری کے خام مال کی کان کنی اور پروسیسنگ میں امریکہ درآمدات پر  انحصار کرتا ہے اور امریکہ میں  توانائی،  تعمیر کے لئے زمین، مزدوروں کی اجرت  اور دیگر عوامل کی بلند قیمت نے  سرمایہ کاری کی لاگت کو بڑھا دیا   ہے۔

 حالیہ برسوں میں امریکی حکومتوں نے “دوبارہ صنعت کاری” کو ترجیح دی ہے اور سبسڈیز اور ٹیکس چھوٹ کا ایک سلسلہ  بھی متعارف کروایا ہے۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ زیادہ لاگت، صنعتی پالیسی میں ہم آہنگی کے فقدان، اور  معاشی ڈھانچے میں مالیاتی صنعت کی طرف  حد سے زیادہ ترجیح نے مینوفیکچرنگ صنعت کی بحالی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

 اس کے علاوہ امریکہ میں معاون انفراسٹرکچر،مارکیٹ کی مانگ میں کمی جیسے مسائل بھی سرمایہ کاروں کی تشویش کو بڑھاتے ہیں۔مزید یہ کہ ، امریکی قرضوں کا بوجھ ریکارڈ سطح پر ہے ، افراط زر اب بھی زیادہ ہے ، اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مسلسل ہڑتالیں جاری ہیں۔  

ساتھ ہی امریکی مانیٹری پالیسی کے یو ٹرن  اور سیاسی واقعات  سمیت دیگر غیر یقینی صورتحال نے کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ  کے معاشی مسائل کو سیاسی رنگ  دینے کی وجہ سے بھی عالمی کاروباری برادری کا  اعتماد  کمزور  ہوا  ہے۔