چین کو بدنام کرنے کا امریکی جال

چین کو بدنام کرنے کا امریکی جال کیسے بنا جاتا ہے ؟ سی ایم جی کا تبصرہ

بیجنگ (لاہورنامہ) سویڈش فاؤنڈیشن برائے بین الاقوامی امن اور مستقبل کے بانی جان اوبرگ :

” دھیان سے سنیں، یہ بل مطالبہ کرتا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں چین مخالف منفی رپورٹس لکھنے کے لیے مغربی صحافیوں کو تربیت دی جائے ،اور اس پر 1.5 بلین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔”

اوبرگ نے جس بل کا ذکر کیا ہے وہ اپریل 2021 میں امریکی کانگریس کی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی طرف سے منظور کردہ اسٹریٹجک مسابقتی ایکٹ 2021 سے انتہائی مطابقت رکھتا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ چین کے عالمی اثر و رسوخ کے مقابلےکے لئے مالی سال 2022 سے 2026 تک کل ڈیڑھ بلین ڈالر مختص ہوں گے ۔ اس بل میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ بین الاقوامی امریکی میڈیا اداروں کے متعلقہ اداروں کی حمایت اور صحافیوں کی تربیت کے لیے سالانہ 100 ملین ڈالر مختص کیے جائیں ، جس میں خاص طور پر “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو کے تحت منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔

واشنگٹن کس طرح میڈیا کو چین کے خلاف رائے عامہ کی جنگ لڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے؟ سویڈش بیلٹ اینڈ روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر حسین اسکاری کی تحقیق کہتی ہے کہ “قرض کے جال” کی اصطلاح مئی 2018 میں عوام کے سامنے آئی ۔

اس وقت ہارورڈ یونورسٹی کے کینیڈی اسکول کی ویب سائٹ نے “ڈیبٹ ڈپلومیسی” کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا تھا۔ لیکن مقالے کے دو مصنفین معاشیات کے شعبے کے ماہر نہیں تھے اور پہلے مصنف سیم پارکر کا تعلق ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ سے تھا۔

بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ نے یہ مقالہ مختلف میڈیا اداروں میں تقسیم کیا۔ بگ ڈیٹا سرچز کے مطابق مئی 2018 میں اس تصور کے جاری ہونے کے بعد “قرض کے جال” کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مثال کے طور پر ، وائس آف امریکہ میں ، 2023 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بارے میں 93 فیصد رپورٹس منفی تھیں ، اور “قرض کے جال” کی اصطلاح اکثر میں نمایاں تھی ۔

علاوہ ازیں امریکی حکومت مقامی این جی اوز اور صحافیوں کو رشوت دے کر چینی کمپنیوں اور منصوبوں کو بدنام کرنے کے بیرون ملک بھی ڈالر ز خرچ کرتی ہے.