فوجی کمپنیوں پر پابندیوں کا فیصلہ

چین کی جانب سے پانچ امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندیوں کا فیصلہ

بیجنگ (لاہورنامہ)چین کے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت اور چینی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ردعمل کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے ایک چین کے اصول اور چین اور امریکہ کے تین مشترکہ اعلامیوں بالخصوص “17 اگست” کے اعلامیے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے چین کے تائیوان کو ہتھیار فروخت کیے.

اور چینی کاروباری اداروں اور افراد پر غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں عائد کیں، جس سے چین کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات اور آبنائے تائیوان کے امن و امان کو سنگین نقصان پہنچا ہے اور چینی کاروباری اداروں اور افراد کے قانونی حقوق و مفادات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اتوار کے روز ترجمان نے کہا کہ چین اس عمل کی سخت مخالفت کرتا ہے اور چین نے اس ضمن میں امریکہ کے سامنے سنجیدہ اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے خارجہ پابندیوں کے انسداد کے قانون کے مطابق امریکہ کی جانب سے مذکورہ بالا سنگین غلطیوں کے جواب میں چین نے بی اے ای سسٹمز لینڈ اینڈ آرمامنٹ سمیت پانچ امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان پابندیوں میں چین میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور دیگر اقسام کی املاک کو منجمد کرنا اور چین میں موجود تنظیموں اور افراد کو ان کے ساتھ تجارت، تعاون اور دیگر سرگرمیوں سے روکنا شامل ہے۔

چینی وزرت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ چینی حکومت قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع اور چینی کاروباری اداروں اور شہریوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین اور امریکہ کے تین مشترکہ اعلامیوں پر سختی سے عمل کرے، بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے، تائیوان کو اسلحے کی فراہمی اور چین کے خلاف غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں عائد کرنا بند کرے ، ورنہ چین اس کا بھرپور جواب دے گا ۔