امریکی دباؤ

چینی کمپنیوں پر امریکی دباؤ سراسر اقتصادی بالادستی کی کوشش ہے، ماؤ ننگ

بیجنگ (لاہورنامہ)  چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں امریکہ کی جانب سے چین کو چپس پر برآمدی کنٹرول اور چینی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں پر دباؤ بڑھانے پر کہا کہ قومی سلامتی کے نام نہاد بہانے کو بنیاد بناتے ہوئے امریکہ کا یہ عمل اقتصادی بالادستی کے حصول کےسوا کچھ نہیں۔

پیر کے روز انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف سیمی کنڈکٹر ایکسپورٹ کنٹرول کے اقدامات کا نفاذ چین کے خلاف امتیازی سلوک ہے اور محصولات اور تجارت پر جنرل اگریمنٹ یعنی جی اے ٹی ٹی کے آرٹیکل 1 کے مطابق ” موسٹ فیورڈ نیشن “کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے متعلقہ چینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا اور چینی ساختہ ٹیلی کمیونیکیشن سازوسامان کو امریکی مارکیٹ میں داخلےسے روک دیاجو نہ صرف جی اے ٹی ٹی کے آرٹیکل 11 میں طے شدہ مقداری پابندیوں کو عام طور پر اٹھانے کے اصول کی خلاف ورزی ہے.

بلکہ اس امریکی پابندی نے تجارت پر تکنیکی رکاوٹوں کے معاہدے کی متعلقہ شقوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اکثر بین الاقوامی قوانین کے عمل درآمد کا ذکر کرتا ہے لیکن در حقیقیت اس کے اقدامات ان قوانین کو نظر انداز اور کمزور کرتے ہیں ۔