تا ئیوان کا مسئلہ

تا ئیوان کا مسئلہ چین امریکہ تعلقات کی سرخ لکیر ہے، چینی وزارت خا رجہ

بیجنگ (لاہورنامہ)  چین کی وزارت خارجہ نے  اعلان کیا ہے کہ  “عوامی جمہوریہ چین کے غیر ملکی پابندیوں کے خلاف قانون” کے مطابق پانچ امریکی فوجی اداروں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

یہ اقدام   امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحے کی فروخت کےنئے  دور   اور مختلف بہانے سے چینی کاروباری اداروں اور افراد پر عائد پابندیوں کا چین کی جانب سے جواب  ہے، اور یہ امریکہ میں کچھ لوگوں کے لیےتائیوان کے مسئلے کے بہانے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پر   ایک سنجیدہ انتباہ  بھی ہے ۔

 یہ پانچ فوجی ادارے تائیوان کو امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی تازہ ترین فروخت میں ملوث ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں امریکی محکمہ دفاع نے  چین کے تائیوان کو 300 ملین ڈالر کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری کا اعلان کیا تھا ۔

موجودہ امریکی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تائیوان کو امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی فروخت کا یہ بارہواں واقعہ ہے۔ امریکہ کے اقدامات نے ایک چین کے اصول اور  چین امریکہ  تین مشترکہ اعلامیوں کی دفعات، بالخصوص 17 اگست کے اعلامیے کی خلاف ورزی کی ہے اور سان فرانسسکو میں چین-امریکہ سربراہ اجلاس میں امریکی رہنماؤں کی طرف سے کیے گئے سیاسی وعدوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔اس سے ایک بار پھر ظاہر ہوا ہے کہ تائیوان کے مسئلے پر امریکہ کے کچھ حلقے اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے۔

 آگ سے کھیلنے کی قیمت  چکانی پڑتی ہے. چین نے بارہا کہا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے، چین امریکہ تعلقات کی سیاسی  بنیاد ہے، اور چین امریکہ تعلقات کی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔

امریکہ نے “تائیوان کارڈ کھیلنے” میں پہل کی اور چین نے جو جوابی اقدام اٹھایا ہے وہ جائز، معقول، درست اور موثر ہے۔ اگر امریکہ اور تائیوان کے درمیان فوجی گٹھ جوڑ بڑھتا رہا تو چین کو مزید سخت  اقدامات کرنےکا حق  حاصل ہے۔

امریکہ کو ایک چین کی پالیسی   اور “تائیوان کی علیحدگی” کی حمایت نہ کرنے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد  میں ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ حقائق ثابت کریں گے کہ امریکہ تائیوان  کو کتنے ہی ہتھیار کیوں نہ فراہم کرے، وہ چین کی وحدت کے تاریخی عمل کو روک نہیں سکے گا۔