جشن  بہار

“جشن  بہار” اتنا  سادہ  نہیں ، جتنا آپ سمجھتے ہیں

بیجنگ (لاہورنامہ)  جشن  بہار چین کا اہم ترین سالانہ تہوار اور روایتی چینی ثقافت کا مکمل مظہر  ہے. جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ دن پرانے کو الوداع کہنے اور نئے کو خوش آمدید کہنے کا ایک دن ہے۔

چینیوں کے لیے جشن  بہار کا تہوار نہ صرف ایک خاندانی اجتماع ہے بلکہ چینی لوگوں کے لیے اپنی زندگی کے سفر   میں رک کر آرام کرنے  کے لیے ایک روحانی اسٹیشن کی طرح ہے، جس کے بعد چینی لوگ  ہمت مجتمع  کر کے دوبارہ سفر پر روانہ ہوتے ہیں.

تھوڑی سی مبالغہ آرائی کریں تو  یہ کہا جا سکتا ہے کہ  چینیوں کی صرف ایک زندگی نہیں بلکہ درجنوں زندگیاں ہیں جو جشن  بہار کے درمیان  منقسم ہیں:گزرنے والے سال کے آخر  اور نئے سال کے آغاز میں، چینی لوگ  ماضی کے غموں، خوشیوں اور ناکامیوں کو الوداع کہتے ہیں ، یہاں تک کہ  وہ ماضی کو مٹا کر ایک بار پھر زندگی کے نئے راستے پر گامزن ہوتے ہیں۔تجدیدِ وقت کی یہ منفرد  آگاہی چینیوں کو زندگی کے بارے میں ایک مثبت رویہ برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے.

یقیناً، خاندانی جذبات کا اظہار ، خاندانی ہم آہنگی اور وابستگی کے احساس کو مضبوط بنانا ہمیشہ سے جشن بہار کا سب سے اہم عمل رہا ہے. چین ایک ایسا ملک ہے جو خاندانی اقدار کو بہت اہمیت دیتا ہے  اور جشن  بہار ایک ایسا تہوار ہے جو خاندانی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔

دوسرا، جشن  بہار کے دوران، چینی لوگ  قربانی کے ذریعے اپنے آباؤ اجداد اور فطرت کے لیے اپنے احترام کا اظہار کرتے ہیں، جو چینی ثقافت کی جڑوں کو محفوظ رکھنے اور قومی شناخت کو عیاں کرنے  کا ایک اہم طریقہ ہے.

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ چینی لوگ  دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں وہ ہر جشن  بہار کے موقع پر چائنا ٹاؤن میں ڈریگن اور شیروں کا رقص کرتے ہیں اور جشن  بہار کے  میلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔اس طرح یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  جشن  بہار ایک عام سا تہوار نہیں ہے، بلکہ چینی ثقافت کی علامت اور قومی جذبات کے اظہار کی ایک طاقتور قوت ہے.

جشن  بہار کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ 40 سالوں میں نئے چینی سال کے موقع پر چین کے سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک  سی سی ٹی وی کی طرف سے نشر کیا جانے والے سپرنگ فیسٹیول گالا کو دیکھنا، جشن بہار  کے موقع پر چاند رات کا کھانا کھانے اور  رت جگا کرنے کی طرح ، جشن  بہار  کی  ایک اور اہم رسم بن چکا ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ورائٹی ٹی وی شو  ، سپرنگ فیسٹیول گالا ،ٹی وی پروگرام کے روایتی  تصور سے بہت آگے بڑھ کر انتہائی علامتی اور نیا “فوک ٹرینڈ ” بن گیا ہے۔ اپنے آغاز  سے لے کر اب تک سپرنگ فیسٹیول گالا چین کی اصلاحات اور کھلے پن کے نقش قدم پر چلاہے، اگرچہ لوگوں کے ذوق میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اسے مختلف مواقع پر تعریف ، تنقید  اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے.

لیکن اس سے، اس کے  چینیوں کی شناخت بننے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ایک چینی طالب علم نے ایک بار نہایت جذباتی انداز میں کہا تھا: ‘اگرچہ بہت سے لوگ سپرنگ فیسٹیول گالا کے بارے میں شکایت کرتے ہیں، لیکن جب میں اکیلے بیرون ملک سپرنگ فیسٹیول گالا دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے ۔

میرے لیے جشن بہار کی سب سے اہم روایت اور رسم ،سپرنگ فیسٹیول گالا دیکھنا ہے۔ جہاں میں  رہتا ہوں وہاں کے اور چین کے وقت میں فرق ہے ۔اپنے  ملک کے ساتھ ہم آہنگی کے احساس سے میں نے کھڑکی کے پردے گرائے اور سپرنگ فیسٹیول گالا دیکھنے کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں تیار کیں ۔ میں بالکل اسی طرح محسوس کررہا تھا جیسے گھر پر اپنے والدین کے ساتھ جشن بہار  سے پہلے چاند رات کو کھانا کھاتے ہوئے سپرنگ فیسٹیول گالا دیکھ رہا ہوں۔ ”

آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ  “ہاں سمجھ گئے، جشن بہار چینیوں کے لیے ایک بے حد خوشگوار تہوار ہے”۔ اگر آپ کو ایسا لگ رہا ہے  تو، آپ نے اسے سرسری طور پر سمجھا  ہے. جشن بہار ایک ہی وقت میں خوشگوار، اداس اور پیچیدہ  بھی ہوسکتا ہے۔

یہ  ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ  جب کئی چینیوں کے دل میں چھپے  جذبات یک دم  بھڑکتے ہیں: پچھلے سال میں، ہر کوئی خوش اور خوشحال  نہیں رہ سکا تھا. گزشتہ ایک سال میں کسی نہ کسی  نے اپنی  کسی بے حد  عزیز ہستی کو کھو دیا ، بہت سی مشکلات آئیں، کبھی کبھی واقعی ایسا محسوس ہوا  کہ بس میں اب مزید سہہ  نہیں سکتا، دل میں بہت سے ایسے  شکوے دبے رہے  جنہیں  کہہ دینے کا کوئی موقع نہیں ملا ۔  

جشن بہار کے موقع پر دل میں چھپا یہ سب کچھ  باہر  نکلنے  کو کوئی مناسب  راستہ تلاش کر لے گا۔ اسی لیے   نئے چینی سال کے عشائیے میں آپ کو چینیوں کی ہنسی کے ساتھ ساتھ آنسو بھی نظر آئیں گے، خوشی اور صحت کے جام ٹکرانے اور خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ ،ایک دوسرے سے  گلے مل کر ، دل کھول کر   رونا بھی دیکھنے کو ملتا  ہے۔

اب  آپ یہ سوچتے ہیں کہ  “سمجھ گئے،  جشن بہار  وہ دن ہے جب چینی  اپنے گھر  واپس جاتے ہیں”، اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو، یہ سوچ بھی سرسری علم  ہے. چینی لوگ جشن بہار کے دوران جس گھر میں واپس جانا چاہتے ہیں وہ صرف ان کے والدین کا گھر ہوسکتا ہے اور اگر ان کے والدین چلے گئے تو ، چینیوں کے پاس جشن بہار کے موقع پر جانے کے لیے کوئی گھر نہیں ہوگا۔

یہاں تک کہ چینی گھرانوں  کے بچوں کی جب شادیاں ہو جاتی ہیں ، ان کے اپنے بچے ہوتے ہیں اور ان کا اپنا  ایک  خاندان بن جاتا ہے تب بھی  جشن بہار منانے  کے لیے وہ اپنے والدین کے گھر واپس جاتے ہیں۔ جب ان کے والدین چلے جاتےہیں، تو پھر وہ  خود وہ والدین بن جاتے ہیں کہ جن کا گھر ان کے  بچوں کے لیے جشن بہار  کی  منزل بن جاتا ہے  ، یوں  یہ سلسلہ نسل در نسل  چلتا رہتا ہے۔

 “والدین زندہ  ہیں تو  یاد رہتا ہے   کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ والدین کے بعد،  زندگی میں صرف  واپسی  کا راستہ باقی رہ جاتا ہے”. چینیوں کی زبان پر گھر کا اصل مفہوم یہی  ہے۔ چینیوں کا گھر مغربی لوگوں  کی طرح صرف ان کا ،ان کی بیوی اور  بچوں کا چھوٹا سا گھر نہیں ہے بلکہ ان  کے والدین کا گھر ہے جہاں وہ اپنے تمام بھائی بہنوں  کے ساتھ ہیں اور صرف یہی چینی لوگوں کے دل کاآخری سہارا اور  ان کو احساسِ تحفظ  دے سکتا ہے۔

گزشتہ سال 22 دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر جشن بہار کو اقوام متحدہ کی تعطیل قرار دینے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اس وقت تک ، تقریبا 20 ممالک نے جشن بہار کو قانونی تعطیل کے طور پراپنایا ہے۔

دنیا کی تقریباً 5/1 آبادی نئے چینی سال کو مختلف شکلوں میں مناتی ہے، اور جشن بہار کی لوک سرگرمیاں تقریبا 200 ممالک اور خطوں میں منعقد  ہوتی ہیں، جو ایک عالمی ثقافتی تقریب بن کر تمام ممالک کے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث بن چکی ہیں۔ جشن بہار پرمسرت اور پرامن ہے ، جو موسم بہار کی برکتوں اور گرمجوشی کی نمائندگی کرتا ہے  اور ہم آہنگی اور امن کی چینی ثقافت کے روحانی محور  کا بھی مظہر ہے۔

جشن بہار واقعی سادہ نہیں ہے۔ بہت سی  نیک خواہشات کے ساتھ ، جشن بہار مبارک ہو۔