چین کی ترقی اور اقتصادی نمو

چین کی ترقی اور اقتصادی نمو کے لیے بدستور گنجائش موجود ہے، ورلڈ اکنا مک فورم 

بیجنگ (لاہورنامہ)ورلڈ اکنامک فورم 2024 کے سالانہ اجلاس کے موقع پر،  چائنا میڈیا گروپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین کلاس شواب کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا۔بات چیت کے دوران شواب نے سالانہ اجلاس کے موضوع “اعتماد کی تعمیر نو”  اور تعاون پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

 شواب نے کہا کہ آج کی دنیا منقسم ہو چکی ہے اور ہم ایک دوسرے پر ایک حد تک اعتماد کھو چکے ہیں۔رواں سالانہ اجلاس کے اہداف کے تعین کے لئے ہم  مزید تعمیری جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں،  اسی لیے ہم نے”اعتماد کی تعمیر نو” کا موضوع منتخب کیا۔

شواب نےامید ظاہر کی کہ اس سال ڈیووس کی سالانہ میٹنگ ہر کسی کو مستقبل کی جانب دیکھنے کی اجازت دے گی۔2017 میں، صدر شی جن پھنگ نے “وقت کی ذمہ داری کا اشتراک اور عالمی ترقی کا مشترکہ طور پر فروغ” کے عنوان سے کلیدی خطاب میں واضح طور پر عالمی معیشت کو مشکلات سے نکالنے کے لیے چین کی تجویز پیش کی تھی، جسے بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ۔

حالیہ برسوں میں، چین نے متعدد عالمی اقدامات کی تجویز پیش کی ہے، جن میں گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹیو،اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے  کی تعمیر کا تصور شامل ہے۔شواب کےمطابق یہ ضروری ہے کہ ہم مندرجہ بالا اصولوں کو آج کی دنیا پر لاگو کریں اور بدلتی ہوئی دنیا کو  تسلیم کریں۔

 شواب نے کہا کہ اگر فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے شمار کیا جائے تو چین اب بھی ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے۔ اس لیے چین کی ترقی اور اقتصادی نمو کے لیے بدستور گنجائش موجود ہے۔ چین موجودہ اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کافی چوکس ہے۔

گزشتہ سال چین کی جانب سے تجویز کردہ گلوبل آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس انیشی ایٹو کے بارے میں، شواب کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک بہت بڑا موقع ہے جو ہمیں تیزی سے بڑھتی ہوئی نئی معیشت فراہم کر سکتا ہے، لیکن یہ بہت سنگین منفی اثرات بھی لا سکتا ہے۔

جب ہم عالمی فریم ورک پر بات کرتے ہیں، تو چین کو اس میں شامل ہونے کی ضرورت ہے، اور ہمارے پاس مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک عالمی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ 

انٹرویو میں شواب نے متعدد مرتبہ آج کی دنیا میں “اعتماد” کی اہمیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین  دیگر ممالک کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر اتفاق رائے پیدا کرنے، عالمی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور روشن مستقبل کی جانب بڑھنے کے لیے کام کرے گا۔