چین کے ناورو کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی ، تین نکاتی بین الاقوامی اتفاق رائے

بیجنگ (لاہورنامہ) ناورو کی پارلیمنٹ نےحال ہی میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ۔ تمام ارکان پارلیمنٹ  نے  تائیوان خطے کے ساتھ  “نام نہاد سفارتی تعلقات منقطع کرنے” اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی حمایت  کی ۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  ناورو حکومت کا فیصلہ اپنے  لوگوں کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے، یہ ناورو کے قومی مفاد میں ہے اور تاریخ کے عمومی رجحان سے مطابقت رکھتا ہے۔ 24  جنوری  کو سفارتی تعلقات کی بحالی پر چین اور ناورو کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کے بعد چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ممالک کی تعداد  183 ہوگئی ہے۔  اس کے برعکس، تائیوان  کے ساتھ   نام نہاد “سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک” کی تعداد صرف 12 ہے۔ 

اقوام متحدہ کی قرارداد 2758 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کے تمام حقوق بحال کیے جائیں اور تائیوان کی جانب سے غیر قانونی نمائندوں کو عالمی ادارے سے فوری طور پر بر طرف  کیا جائے۔یوں سیاسی، قانونی اور طریقہ کار کے لحاظ سے اس قرارداد نے اقوام متحدہ میں تائیوان سمیت پورے چین کی نمائندگی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔

ناورو حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ ناورو اقوام متحدہ کی قرارداد 2758 کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو پورے چین کی نمائندگی کرنے والی واحد قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور تائیوان، چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس سے صاف  ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758، جو ایک چین کے اصول کی توثیق کرتی ہے، ایک بین الاقوامی قانونی اصول ہے اور اس  کی غلط تشریح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چین اور ناو روکے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی نے دنیا پر یہ بات مزید واضح کر دی ہے کہ “تائیوان کی علیحدگی “کا راستہ ایک بند گلی  کے مترادف ہے۔

 2016 میں تائیوان کی  ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، 10 ممالک نے تائیوان کے ساتھ “سفارتی تعلقات ” منقطع کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں تووالو کے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ  تووالو ، تائیوان کے ساتھ اپنے نام نہاد ‘سفارتی تعلقات’ کا از سر نو جائزہ لے گا۔

 “ڈومینوز” ایک ایک کرکے گر رہے ہیں۔ تائیوان انتظامیہ  کی “ڈالر  ڈپلومیسی” اپنے  اختتام کو پہنچ رہی ہےاور  ظاہر  ہے  نام نہاد سفارتی تعلقات والے باقی 12 ممالک کے لیے اپنی پوزیشن برقرار رکھنا  کافی مشکل ثابت ہوگا۔