الاقوامی دہشت گردی

چین نے بین الاقوامی دہشت گردی میں قانون کی حکمرانی کیلئے محنت کی ہے، رپورٹ

بیجنگ (لاہورنامہ) حالیہ دنوں چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس نے “چین کے انسداد دہشت گردی  کا قانونی نظام اور عمل” کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا ،جس میں چین کے انسداد دہشت گردی کے قانونی عمل اور متعلقہ قانونی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات  کا منظم انداز میں جائزہ لیا گیا ہے، اور چین کے عملی  تصورات اور تجربے کی وضاحت کی گئی ہے۔

سنکیانگ انسداد دہشت گردی میں چین کا اہم محاذ ہے، اور کیا سنکیانگ محفوظ اور مستحکم ہے، اور کیا سنکیانگ کے عوام قانونی نظام کے تحت اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ سے مکمل طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں؟ اس کے ثبوت  چین کے انسداد دہشت گردی کے عمل ہیں جو ان سوالات کے جوابات دے رہے ہیں ۔

اگر آپ ذاتی طور پر سنکیانگ نہیں گئے ہیں، تو  انٹرنیٹ پر سنکیانگ میں سیاحت کے جوش و خروش پر ایک نظر ڈالیں جو حالیہ برسوں میں چین بھر کے سیاحوں نے ایک بار پھر شروع کیا ہے اور  سوشل میڈیا پر ارمچی گرینڈ بازار  میں  اپنے ڈانس پارٹنر کے ساتھ  مزاحیہ انداز میں رقص کرنے والے مشہور ویغور چچا  کی ویڈیو دیکھیں.

سنکیانگ  سے تعلق رکھنے والے فوڈ بلاگرز کی مقامی پکوانوں کو متعارف کرانے کی ویڈیوز دیکھیں  جنہیں نوجوان ” رات گئے کے کھانوں کا نشہ  ”  کہتے ہیں اور سنکیانگ کے بہار و خزاں کے خوبصورت مناظر اور بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بڑی بڑی  ویب سائٹس پر انٹرنیٹ کی مشہور شخصیات کی جانب سے مختلف پوز دیتے ہوئے کھنچوائی گئی  تصاویر ،     یہ سب سنکیانگ کے لوگوں کی جانب سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے  دعوت نامہ  ہیں ۔

سنکیانگ افراتفری سے استحکام  اور  استحکام سے ایک بار پھر  خوشحالی کی طرف رواں دواں  ہے اور یہ ماحول  انسداد دہشت گردی میں چین کی تاریخی کامیابیوں کو مکمل طور پر ثابت کرتا ہے۔ 

دہشت گردی انسانی معاشرے کی مشترکہ دشمن ہے اور دہشت گردی  کا خاتمہ ،  عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم، دنیا دہشت گردی کی مختلف صورتوں اور طریقوں کا سامنا کر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف قانون کی حکمرانی کا عمل ہر جگہ  یکساں ہونا عملی طور پر ناممکن ہے.

برسوں کی ترقی اور بہتری کے بعد، چین کے انسداد دہشت گردی کے قانونی نظام نے قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے تصور میں ہم آہنگی اور یکجہتی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کے لیے قوانین موجود ہیں،قوانین کے درست استعمال کی ضمانت دی گئی ہے اور صحیح معنوں میں ان قوانین کے  نفاذ کو   یقینی بنایا گیا ہے ۔  

خاص طور پر قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے عمل  میں انسانی حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی گئی ، جس میں ذاتی آزادی، ذاتی وقار، دفاع کا حق، جاننے کا حق، شرکت کا حق وغیرہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر عوامی جمہوریہ چین کے انسداد دہشت گردی کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں شہریوں کے مذہبی عقیدے اور قومیتوں کے رسوم و رواج اور روایات  کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے اور علاقائی،قومیتی ،  مذہبی اور دیگر بنیادوں پر کسی بھی امتیازی سلوک کی ممانعت ہے۔

چین کے انسداد دہشت گردی کے تصورات اور طریقوں کی بین الاقوامی برادری نے بھی توثیق کی  ہے۔ دو سال قبل موسم بہار کے اوائل میں پاکستان، روس، بنگلہ دیش سمیت 30 سے زائد  ممالک کے سفیروں اور سفارتکاروں کے ایک وفد نے سنکیانگ کا دورہ کیا۔

انہوں نے  موضوعی نمائشوں، مذہبی سرگرمیوں کے مقامات اور غربت کے خاتمے کے منصوبوں کا جائزہ لیا ، ارمچی، کاشغر، اکسو اور دیگر مقامات پر بورڈنگ اسکولوں کا دورہ کیا، مختلف خاندانوں اور مقامی لوگوں کے ساتھ ملاقات کی اور تبادلہِ خیال کیا ۔ وفد کے ارکان نے چین کی انسداد دہشت گردی اور سنکیانگ میں مذہبی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی کامیابیوں پر مثبت رد عمل دیا ۔

انہوں نے مذہبی عقیدے کی آزادی کی پالیسی کے نفاذ اور سماجی استحکام، قومیتی  اتحاد کو فروغ دینے اور لوگوں کے ذرائع معاش کو بہتر بنانے میں سنکیانگ کی کامیابیوں اور اس سلسلے میں اختیار کیے گئے اقدامات کو سراہا ۔ اس سے قبل پاکستان ،روس ، سعودی عرب اور مصر سمیت 37 ممالک کے سفیروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے صدر اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا تھا.

جس میں سنکیانگ کے امور پر چین کے مؤقف کی حمایت کی گئی تھی اور چین کے  عوام پر مرکوز ترقیاتی فلسفے پر عمل کرنے اور ترقی کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ میں اس کی بڑی کامیابیوں کو سراہا گیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی نے سنکیانگ میں تمام قومیتی  گروہوں کے لوگوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق جیسے زندگی کی بقا، صحت اور ترقی کے حقوق کو پامال کیا ہے۔

سنکیانگ نے انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے اقدامات کا ایک سلسلہ اپنایا ہے ، جس میں پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے مراکز کا قیام بھی شامل ہے ، جس نے سنکیانگ میں تمام قومیتی  گروہوں کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مؤثر طریقے سے تحفظ کیا ہے  اور ان کی خوشحالی ،مفادات  اور سلامتی کے احساس میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

حقائق   نے ثابت کیا ہے کہ جب تک مختلف ممالک میں انسداد دہشت گردی کی جدوجہد اور عمل در آمد  میں انسانی معاشرے کی عمومی  اقدار کی عکاسی ہوتی ہے، انسداد دہشت گردی کے بارے میں اقوام متحدہ کے اصول و قوانین پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ قانونی کاروائیاں ان کے قومی حالات اور قانونی نظام کے مطابق ہوتی ہیں .

تو  وہ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے  قانون کی حکمرانی کی مسلسل ترقی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے سکتے ہیں. چین انسانیت کے ہم نصیب معاشرے  کے تصور کی رہنمائی میں انسداد دہشت گردی  کی عالمی کاروائیوں  میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھے گا.

اور مساوات اور احترام کی بنیاد پر وسیع باہمی سیکھنے، تبادلے اور تعاون کو آگے بڑھائے گا، تاکہ مشترکہ طور پر عالمی انسداد دہشت گردی  کے نصب العین کی مثبت ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔