چین اور ڈنمارک کے تعلقات

چین – فرا نس تعلقات سے دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے، شی جن پھنگ 

بیجنگ (لاہورنامہ)چینی صدر شی جن پھنگ نے  چین اور فرانس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ منانے کے موقع پر فرانسیسی صدر میکرون کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔

ہفتہ کے روزشی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ 60 سال قبل چین اور فرانس نے سفارتی سطح پر سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس تاریخی واقعے نے عالمی طرز کو مکالمے اور تعاون کی درست سمت میں آگے بڑھایا اور آج بھی روشن خیالی میں اس کی اہمیت ہے۔

گزشتہ 60 سالوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نے بہت سے “اولین اعزاز” حاصل کیے ہیں اور ثمر آور نتائج حاصل کیے ہیں، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے، بلکہ عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے، عالمی کثیر قطبیت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی جمہوریت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

شی جن پھنگ نے زور دے کر کہا کہ آج کی دنیا ایک بار پھر نازک دوراہے پر پہنچ گئی ہے۔ آزاد بڑے ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر، چین اور فرانس کو سفارتی تعلقات قائم کرنے کے اصل ارادے کو برقرار رکھنا چاہیے.

اپنے ذمہ دار مشن کو سنبھالنا چاہیے اور مشترکہ طور پر انسانی ترقی کے لیے ایک ایسا راستہ کھولنا چاہیے جو امن، سلامتی، خوشحالی اور ترقی کی طرف لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین اور فرانس کے تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور صدر میکرون کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اور زیادہ متحرک چین-فرانس جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے اور دونوں ممالک اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر میکرون نے اپنے مبارکباد کے پیغام میں کہا کہ 60 سال قبل فرانس اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام ایک دور اندیش اور تاریخی فیصلہ تھا۔ دنیا آج ایک بحرانی دور سےگزر رہی ہے ۔ اس صورت حال میں فرانس، چین اور یورپ کو عالمی چیلنجوں کا مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کوشش کرنی چاہیے ۔

میں صدر شی جن پھنگ کے ساتھ مل کر دوطرفہ اقتصادی و تجارتی، ثقافتی و افرادی تبادلوں کو فروغ دینے، عالمی مسائل پر رابطوں اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے،مستقبل میں فرانس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے کام کرنے کا منتظر ہوں۔