بینکاری اور انشورنس اداروں

چین کی بینکاری اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی ختم

بیجنگ (لاہورنامہ)چین کے قومی محکمہ برائے مالیاتی نگرانی کے نائب سربراہ شیاؤ یوان چھی نے ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ چین نے بینکاری اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی ختم کر دی ہے ، اب غیر ملکی سرمایہ کار چینی بینکنگ اور انشورنس اداروں کی ایکویٹی کا 100 فیصد حصہ حاصل کرکے ان پر مکمل کنٹرول کر سکتے ہیں۔

یہ چین کی جانب سے قومی معاشی تحفظ اور ہموار کارکردگی کو یقینی بنانے کی بنیاد پر مالیاتی خدمات کے شعبے میں بیرونی دنیا کے لیے مزید کھلے پن کے حوالے سے اٹھایا گیا ایک اہم اقدام ہے.

جو غیر ملکی سرمائے کو مائل کرنے ، اسے استعمال کرنے اور چین کے مالیاتی شعبے کو بڑا اور مضبوط بنانے کے لیے سازگار ہے۔ اس پالیسی کا اعلان بروقت ہے اور یہ اعلی معیار کے کھلے پن کو وسعت دینے کے چین کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

بینکنگ اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی کا خاتمہ کوئی اچانک اور عارضی اقدام نہیں ہے۔ مالیات کسی بھی ملک کی بنیادی مسابقت کا ایک اہم حصہ ہےجبکہ مالیاتی قوت کی تشکیل ایک ہمہ گیر جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کا فطری تقاضہ اور ناگزیر انتخاب ہے.

چائنا بینکنگ اینڈ انشورنس ریگولیٹری کمیشن (سی بی آئی آر سی) نے اپریل 2018 میں ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ چینی بینکوں اور مالیاتی اثاثوں کی انتظامی کمپنیوں میں غیر ملکی حصص پر پابندیوں کو جلد از جلد ختم کرنے کو آگے بڑھائے گا.

ملکی اور غیرملکی سرمائے کے لیے ایکویٹی سرمایہ کاری کے برابر تناسب کی پالیسی اپنائےگا ، غیر ملکی سرمائے سے چلنے والی لائف انشورنس کمپنیز کے غیر ملکی حصص کے تناسب کو 51 فیصد تک بڑھائےگا اور تین سال بعد ان کی حد ختم کردے گا ۔

اپریل 2020 میں ، چین نے سرکاری طور پر سکیورٹی کمپنیز اور میوچل فنڈ کمپنیز میں غیر ملکی سرمائے کے لیے حصص کے تناسب پر سے پابندیاں اٹھا لیں۔ اکتوبر 2022 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20 ویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں “قواعد و ضوابط ، انتظام اور معیار سمیت ادارہ جاتی کھلے پن کو مستحکم طور پر فروغ دینے ” کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

گزشتہ سال اکتوبر میں منعقدہ سینٹرل فنانشل ورک کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ہمیں مالیاتی شعبے کے ادارہ جاتی کھلے پن کو مستحکم انداز سے بڑھانا ہوگا اور سرحد پار سرمایہ کاری اور فنانسنگ کی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

بینکنگ اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی کے خاتمے سے پیدا ہونے والے خطرات مکمل طور پر قابو میں ہیں. نئے دور کے آغاز سے ہی چین نے فعال اور منظم انداز میں مالیاتی شعبے کے کھلے پن کو فروغ د یا ہے اور ساتھ ہی کرنٹ اکاؤنٹ اور کیپٹل اکاؤنٹ کے تحت کھلے پن کے درمیان فرق کو نہایت اہمیت دی ہے۔

بینکنگ اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی کے خاتمے کا شمار کرنٹ اکاؤنٹ کے تحت مالیاتی خدمات کی صنعت کے کھلے پن سے ہے۔

جہاں تک کیپٹل اکاؤنٹ کے تحت کھلےپن کا تعلق ہے، چین اس پر سختی سے کنٹرول کرتا ہے اور ملک میں ” کوئی منظم خطرہ نہیں” کی ذیلی لکیر پرسختی سے عمل کرنے کے لیےمستقبل قریب میں اسے مزید کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں بھی ہے۔

اس وقت چین کی بینکاری صنعت کے اثاثوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کا پیمانہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ بانڈز، اسٹاک اور انشورنس مارکیٹس کے لحاظ سے یہ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔

چین دنیا کی اہم معیشتوں میں سے واحد ملک ہے جس میں مالیاتی بحران رونما نہیں ہوا۔ مالیاتی مارکیٹ کے بتدریج کھلنے کے ساتھ ساتھ، چین کی مالیات کے قانونی تحفظ کو مسلسل مضبوط بنایا جا رہا ہے ، متعلقہ قوانین و ضوابط ، مالیاتی نظام اور نگرانی کے طریقوں کو مسلسل بہتر بنایا گیا ہے۔

غیر ملکی سرمائے کاچینی بینکوں اور انشورنس اداروں پر مکمل کنٹرول، چین کی مالیات کے لیے منظم خطرہ نہیں ہے۔ بینک ڈپازٹس ہی کی مثال لے لیجیے ، چین کے ڈپازٹ انشورنس سے متعلق ضوابط کی دفعہ نمبر 5 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “ڈپازٹ انشورنس زیادہ سے زیادہ 500،000 آر ایم بی کی ادائیگی کی حد سے مشروط ہوگا”۔

مطلب یہ ہے کہ بینک چاہے دیوالیہ ہے یا نہیں، پانچ لاکھ یوآن سے کم ڈپازٹس کا معاوضہ لازمی ہے، جو عام لوگوں کی اکثریت کو قابل اعتماد مالیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، چین کے انشورنس قوانین نے بیمہ شدہ اور مستفید ہونے والوں کے انشورنس حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط ادارہ جاتی انتظامات کیے ہیں.

خاص طور پر لائف انشورنس کے حقوق اور مفادات، جسے انشورنس سیکٹر کے اہلکار ازراہِ مذاق کہتے ہیں کہ “چین میں انشورنس اداروں کو دیوالیہ ہونے کی اجازت نہیں ہے”.

بینکاری اور انشورنس اداروں میں غیر ملکی حصص کے تناسب پر پابندی کے خاتمے کا مقصد نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے ، بلکہ چینی مالیاتی اداروں کی کارکردگی ،انتظام اور مسابقت کے معیار کو بہتر بنانا اور اعلی معیار کی ترقی حاصل کرنا بھی ہے۔

چینی مارکیٹ میں غیر ملکی مالیاتی اداروں کے داخلے سے چین کی مالیاتی فراہمی میں موجود عدم توازن اور نا مکمل حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور چینی لوگوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے وسائل کے بندوبست کے مزید مواقع فراہم ہوں گے۔

دوسری طرف، غیر ملکی سرمائے کی جانب مسابقت کے سامنے چینی مالیاتی ادارے اپنی مقامی برتری کو مزید بروئے کار لاتے ہوئے عمدہ بین الاقوامی طریقوں اور تجربات سے سیکھیں گے، مالیاتی جدت طرازی اور خدمات کو اپ گریڈ کریں گے اور اپنی مسابقت کو بڑھائیں گے.

اس کے علاوہ، غیر ملکی اداروں کی بھرپور شرکت کی بدولت چین کی مالیاتی صنعت کے بین الاقوامی وژن اور عالمی اثر و رسوخ کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی.

2023 کے اختتام تک چین میں غیر ملکی سرمائے سے چلنے والے888 بینکاری ادارے تھے جن کے کل اثاثے 3.86 ٹریلین یوآن تھے ۔غیر ملکی انشورنس ادارے جن کے کل اثاثے 2.4 ٹریلین یوآن اور مارکیٹ شیئر 10 فیصد تھا ان کی کاروباری کارکردگی بھی 2023 میں اچھی رہی۔

یہ اعداد و شمار چین کی مالیاتی مارکیٹ کی قوت حیات اور کشش کو مکمل طور پر واضح کرتے ہیں اور غیر ملکی مالیاتی ادارے چین کی مالیاتی صنعت میں ایک اہم طاقت بن گئے ہیں.

اعلی ٰ معیار کی ترقی کے لیےاعلی معیار کےمالیاتی کھلے پن کو فروغ دینا ہی واحد
طریقہ ہے۔ بیرونی دنیا کے لیے چین کی مالیاتی صنعت کا کھلاپن یقیناً وسیع سے وسیع تر ہوگا۔یہ اقدام عالمی معاشی بحالی میں قوت محرکہ فراہم کرےگا اور چین کی مالیاتی مارکیٹ کی خوشحالی اور ترقی کو بھی مزید فروغ دے گا۔