جشنِ بہار

جشنِ بہار کے دوران چینی معیشت  کی قوتِ محرکہ

بیجنگ (لاہورنامہ)جشن بہار کی آمد ہے اور  چین کے شمال مشرقی شہر ہارپن میں برف کی سیاحت  عروج پر  ہے ، جب کہ جنوب مشرقی شہر نان جنگ میں  لوگ رنگا رنگ لالٹین دیکھنے کے لیے دریائے چھن حوائی کے کنارے پر چہل قدمی میں مشغول  ہیں۔

نئے سال کے سامان سے بھری ہوئی  ٹرینز  چین کی وسیع و عریض سرزمین پر دوڑ رہی ہیں، جو  لوگوں کی نیک خواہشات لیتے ہوئے   چینی معیشت کی مضبوط اور دیرپا قوتِ محرکہ بھی ظاہر کرتی ہیں۔

سینکڑوں سالوں سے نان جنگ کے لوگ لالٹین فیسٹیول کے ساتھ جشنِ بہار مناتے ہیں۔ ہر سال، چھن حوائی لالٹین فیسٹیول بہت سے سیاحوں کو راغب کرتا ہے، جس سے نان جنگ میں سیاحت، تجارت اور تفریح کو بھی فروغ ملا ہے.

وبا کے دوران چھن حوائی لالٹین فیسٹیول کو معطل کر دیا گیا تھا اور گزشتہ سال جشنِ بہار کے دوران یہ دوبارہ شروع کیا گیا۔ لالٹین فیسٹیول جیسے سیاحتی وسائل کی مدد سے نان جنگ کی سیاحتی صنعت تیزی سے بحال ہوئی ہے۔

صرف جشنِ بہار کے دوران ، نان جنگ میں مسافروں کے 6.1736 ملین ٹرپس ہوئے ، 6.791 بلین یوآن کی سیاحتی آمدنی حاصل ہوئی ،سیاحوں کی تعداد اور سیاحت کی آمدنی تیزی سے وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ، 2023 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں ، نان جنگ میں مجموعی طور پر 146 ملین سفری ٹرپس ہوئے، جو 2019 کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہے۔ سیاحت کی کل آمدنی تقریباً 260 بلین یوآن تک پہنچ گئی ، جو 2019 کے مقابلے میں 34.1 فیصد زیادہ ہے۔

نان جنگ میں سیاحتی معیشت کی بحالی الگ نہیں ہے۔ ہر طرح کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال جشنِ بہار کی تعطیلات کے دوران ، لوگوں کی سفر  اور کھپت  کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک بھر کے داخلی راستوں پر جشنِ بہار کے دوران روزانہ اوسط  1.8 ملین داخلی یا خارجی سفر  متوقع ہیں، جو 2019  کی اسی مدت  کے برابر ہے۔چھون یون،یعنی اسپرنگ فیسٹیول ٹریول رش کے پہلے آٹھ دنوں میں پورے چین میں  1.55 بلین ٹرپس ہوئے ہیں.

بیجنگ میں ایک ٹریول پلیٹ فارم پر ، اسپرنگ فیسٹیول ٹورز کے لئے بیرون ملک آرڈرز کی تعداد میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔

نئے سال کے لیے پھولوں کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے اور اسپرنگ فیسٹیول کی موویز کی پری سیل باکس آفس تقریباً 200 ملین یوآن تک پہنچ چکی ہے۔

صوبہ یون نان کے پریفکیچر شی شوانگ بان نا میں، جشنِ بہار کے لیے مارکیٹ میں مختلف قسم کے سامان دستیاب ہیں۔ لوگ یہاں تھائی لینڈ، لاؤس اور یہاں تک کہ پاکستان کا سامان بھی خرید سکتے ہیں.

صوبہ گوانگ ڈونگ میں ، ڈونگ گوان کی طرف سے  “جشنِ بہار کے سازو سامان کے لیے مخصوص  ٹرینز” گریٹر بے ایریا ،دریائے یانگسی کے ڈیلٹا اور بیجنگ – تھیان جن – حہ بئی خطے کو جوڑتی ہیں اور 10 ملین سے زیادہ سازوسامامان کی ترسیل ہوئی ہے۔

صوبہ گوئی چو میں ٹرین نمبر 5640  پر لوگ جشنِ بہار کی تیاریوں کے لیے بازار سے سامان خریدتے ہیں اور 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی یہ سست ٹرین آس پاس کے گاؤں والوں کے لیے امیر ہونے کی ایک “ایکسپریس وے” بن گئی ہے۔

لالٹین روشن ہوں یا مدھم ہوں،سب زندگی کا حصہ ہے.ڈریگن کے نئے سال میں، لوگ  تمام لالٹین روشن کریں گے اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ آگے بڑھیں گے.