جشن بہار کے بعد

چین، جشن بہار کے بعد چینی شہر یوں کے معمولات زندگی پرامید   

بیجنگ (لاہورنامہ) چینیوں کے لئے ، جشن بہار  کی تعطیلات نہ صرف اپنے اہل خانہ کے ساتھ  ملاقات کا وقت ہے ، بلکہ مختصر آرام کے بعد دوبارہ محنت کرنے کا وقت بھی ہے۔

ہر مرتبہ طویل تعطیلات کے اختتام پر، لوگ انٹرنیٹ پر اپنے دوستوں کو  “گاڑی کی ڈگی میں موجود سامان ” دکھاتے ہیں، جن میں آبائی شہر کی خصوصی مصنوعات، گھر میں پالی گئی  مرغیاں اور والدہ کے ہاتھوں پکے پکوان،وغیرہ شامل ہیں. آج کے زمانے میں جدید لاجسٹکس کی ترقی کے باعث بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو دنیا بھر سے چیزیں بڑی آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں .

لیکن آبائی شہر کا ذائقہ اور ماں کے ہاتھوں سے پکا کھانا ، ہمیشہ سے ہر ایک کے لیے پسندیدہ رہا ہے  اور یہ معمولات زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کی ہمت اور طاقت بھی ہیں۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہر سال گھر کا راستہ  آبائی شہر میں تبدیلیوں کے مشاہدے کا سب سے براہ راست طریقہ ہے.

آج سے بیس سال قبل، مجھے اپنے آبائی شہر تک پہنچنے میں ٹرین سے 20 گھنٹے، بس سے 4 گھنٹے اور رکشے سے آدھا گھنٹہ لگتا تھا ۔ آج، تیز رفتار ٹرین کی بدولت یہ طویل مسافت  محض 4 گھنٹے تک سمٹ آئی ہے۔

ایک اور دوست یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ ان کے صرف ایک درجن افراد کی مستقل آبادی والے آبائی گاؤں میں بھی چینی نئے سال کے دوران ٹریفک جام تھا۔ بیس سال پہلے، یہاں نقل و حمل کا ذریعہ موٹر سائیکلیں تھیں۔ انہوں نے دل سے یہ کہا کہ “دو پہیوں سے چار پہیوں میں تبدیلی کے پیچھے اس ملک کی ترقی اور لوگوں کی زندگیوں میں تیزی سے بہتری ہے۔”

اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی پر عمل درآمد کے بعد سے چین میں 770 ملین دیہی غریب افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ یہ کوئی سادہ اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ 770 ملین لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے.ایک سادہ مثال لیں:

پچھلی صدی کی 80 کی دہائی  میں،عام دنوں میں ہم اکثر سویا مصنوعات کھاتے تھے،جن کا ذائقہ  گوشت جیسا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ انتہائی شدید موسم میں خوراک کی قلت کے باعث، ہمیں صرف جنگلی سبزیوں پر ہی اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ اُس وقت جشن بہار  سب سے خوشی کا موقع ہوتا تھا .

کیونکہ ہمیں صحیح معنوں میں گوشت سے محظوظ ہونے کا موقع ملتا تھا۔ اور آج، کھانے کی میز پر  گائے، بھیڑ، مچھلی سمیت ہر قسم کا گوشت موجود ہوتا ہے، لیکن سب سے پہلے جو چیز کھائی جاتی ہے وہ اکثر تازہ سبزی ہے۔ کیونکہ ہفتے کے دنوں میں گوشت کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔

کھانا وافر مقدار میں ہے، اور رہنے کے حالات بھی بہتر ہیں,بھیڑ بھاڑ اور بے ترتیب بازار بڑے بڑے سپر مارکیٹ بن گئے ہیں، کیچڑ آلود سڑکیں کنکریٹ سڑکیں بن گئی ہیں، اور خستہ حال  تھیٹر جدید سینما گھر بن گئے ہیں…

 زندگی میں بہتری لوگوں کو خوشی کا حقیقی احساس دلاتی ہے ، ساتھ ہی بہتر زندگی کے لئے معیار کو بھی بلند کیا گیا ہے ۔اب ہمارے آبائی شہر میں ماحولیاتی تحفظ پر بھی مزید توجہ دی جا رہی ہے۔ جب لوگ غریب ہوتے تھے، تو لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لئے پرندوں کو پکڑتے تھے۔ 

اب لوگ اپنے دروازوں پر پرندوں کے لیے دانہ رکھتے ہیں اور پرندے بھی دانہ چگتے ہوئے انسانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے. کھیتوں میں سفید بگلے قطاروں میں اڑتے ہیں،  مکانات کی کھائیوں کے نیچے ابابیل نئے گھونسلے بناتے ہیں۔ لوگ فطرت  کی حفاظت کرتے ہیں ،  پھر  پرندوں کے چہچہانے اور پھولوں کی خوشبو  سے لوگوں کو سکون ملتا ہے۔

سردیوں کا ایک طویل موسم گزر چکا ہے۔ ریکاڈ بلند باکس آفس آمدنی، مصروف آن لائن ادائیگی اور پرہجوم سیاحتی مقامات  جیسے  شاندار معاشی مناظر  نے 2024 میں چین کی معیشت کے لئے ایک اچھا آغاز کیا ہے.  تعطیلات ختم ہو چکی ہیں، فیکٹریاں تیزی سے پیداوار دوبارہ شروع کر رہی ہیں.

اور کھیتوں میں بوائی کی مصروفیت زور پکڑ رہی ہیں۔لوگوں نے بھی  اپنے خاندانوں کی محبت اور  بھرپورامید اور اعتماد کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کیا ہے تا کہ اپنے خاندان،  آبائی شہر اور  ملک کا مستقبل روشن اور شاندار ہو سکے ۔