تالو کٹے

ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے لیے حکومت کو عوامی شعور بیدار کرنا ہو گا، ڈاکٹر پروفیسر غلام قادر فیاض

جہلم(آ ن لائن) ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے لیے حکومت کو عوامی شعور بیدار کرنا ہو گا کیونکہ اس وقت پاکستان اس طرح کے بچوں کے تناسب سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے ان خیالات کا اظہار ملک کے نامو پلاسٹک سرجن ڈاکٹر پروفیسر غلام قادر فیاض نے جہلم میں فری کیمپ میں بچوں کے اپریشن کرنے کے بعد کیا اس موقع پر صدر پی ایم اے ایڈیشنل میڈیکل سپرنینڈنٹ ایڈمن ڈاکٹر حفیظ الرحمن،ڈاکٹر عدنان نجب،ڈاکٹر سید شبیر اختر،ڈاکٹر توقیر ارشد،محمد فیصل حنیف،ڈاکٹر مشتاق احمد کے علاوہ اپریشن ٹیم کے 45 ڈاکٹر موجود تھے انہو ں نے کہا کہ ہم نے جہلم میں 218 بچوں کے تالو اور ہونٹ کے اپریشن کیے ہیں جبکہ ان میں سے 150 بچوں کے پہلے بھی اپریشن ہو چکے تھے جن کو صحت نہ ملنے کی وجہ سے دوبارہ اپریشن کیا انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بچے چائنہ،انڈیا،انڈونیشیا اور امریکہ میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال 9 ہزار ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے ہونٹ اور تالو کٹے ہوتے ہیں جبکہ طبی لحاظ سے ہونٹ کٹے بچوں کا تین ماہ میں اور تالو کٹے بچوں کا نو ماہ میں اپریشن کروانا ضروری ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں پلاسٹک سرجری نہ ہونے کے برابر ہے جس سے عوام کو ریلیف نہیں مل رہا حکومت کو اس ضمن میں عوام کا شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم چلانا ہو گی انہوں نے بتایا کہ جہلم میں اپریشن کے لیے آئے ہوئے بچے اور ان کے لواحقین جن کا تعلق کے پی کے،آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے اور یہ اپریشن کلیپ ۔پی ایم اے اور ڈی ایچ اے کے تعاون سے کیے گئے ہیں جس میں نہ صرف تمام اپریشن بلکہ تمام ادویات کے ساتھ ساتھ رہنے کی سہولیات بھی پی ایم اے کے ڈاکٹرز اور ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال نے دیں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنر جہلم سیف انور جپہ نے بھی جس طرح ہماری ٹیم کو تعاون کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات فراہم کروائی ہیں اس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں جبکہ آج یہ کیمپ مکمل ہو گیا ہے اور تمام بچے صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے ہیں انہوں نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور دیگر ڈاکٹرز کا ان کی معاونت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں