ڈینگی, پروفیسر الفرید ظفر

ڈینگی سے متاثرہ افراد کی رہنمائی کیلئے عملہ 24گھنٹے الرٹ رہے گا،پروفیسر الفرید ظفر

لاہور (لاہورنامہ)حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں لاہور جنرل ہسپتال میں ڈینگی بخار میں مبتلا افراد کی رہنمائی کے لئے قائم کاؤنٹر پر عملہ 24گھنٹے الرٹ رہے گا .

جبکہ ڈی ایم ایس ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو بر وقت تشخیصی و طبی سہولیات کی فراہمی کے پابند ہیں اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نا قابل بر داشت ہوگی۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردارمحمد الفرید ظفر نے یہ ہدایات لاہور جنرل ہسپتال ایمرجنسی کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیں جہاں انہوں نے عملے کی حاضری اور ریکارڈ کی مکمل چانچ پڑتال کی۔

اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق و دیگر انتظامی ڈاکٹرز موجود تھے۔ شعبہ حادثات کی فوکل پرسن ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کو ایمرجنسی کی کارکردگی بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 14سال قبل ایمرجنسی 110 بستروں پر تعمیر کی گئی تھی لیکن اب مختلف وارڈز میں ایمرجنسی کے مریضوں کے لئے 220بستر لگا رکھے ہیں۔

انہوں نے بتایا رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر 2,63,084 مریض لائے گئے جنہیں بغیر پرچی فیس کے آپریشن کا سامان، سی ٹی سکین، ادویات و دیگر علاج معالجے کی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی گئیں۔
پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے انتظامی ڈاکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اوپن ڈور پالیسی پرسختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اپنی ڈیوٹی کے دوران ملازمین کی حاضری،کارکردگی، ڈسپلن اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دیں۔

انہوں نے نرسنگ سٹاف کو تاکید کی کہ وہ مریضوں کے میڈیکل چارٹ مکمل رکھیں اور وارڈز میں حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دیں تاکہ مریضوں کو خوشگوار ماحول میسر آ سکے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے ایم ایس سے کہاکہ وہ ا س امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ملازم دوسری شفٹ کو چارج دیے بغیر نہ جائے اسی طرح تاخیر سے آنے اور جلدی جانے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لانے میں ہر گز تاخیر نہ برتی جائے۔

پروفیسر الفرید ظفرنے شعبہ حادثات میں مریضوں کے لواحقین کے رش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نجی سکیورٹی گارڈز کی سرزنش کی اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ چوکس رہ کر اپنے فرائض سر انجام دیں کیونکہ ڈاکٹرزاور نرسیں اسی صورت میں یکسوئی کے ساتھ مریضوں کی بہتر نگہداشت و علاج معالجہ کر سکتے ہیں جب ان کے اردگرد لوگ اکٹھے نہ ہوں۔

پرنسپل نے واضح کیا کہ انتظامیہ کو ایک مریض اور ایک تیماردار کی پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ علاج معالجہ کے طے شدہ اصولوں کی پاسداری کی جا سکے۔پروفیسر الفرید ظفرنے شعبہ حادثات میں مریضوں کے بستر پر جا کر طبی سہولیات کے بارے میں استفسار کیا جس پر لوگوں نے مفت طبی سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔