چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو

چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو، خوشحالی کے اشتراک کی تلاش

بیجنگ (لاہورنامہ)پانچویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو یعنی سی آئی آئی ای پانچ سے دس نومبر تک شنگھائی میں منعقد ہو رہی ہے۔اقتصادی عالمگیریت کو درپیش متعدد چیلنجز کے پیش نظر سی آئی آئی ای نے عالمی اقتصادی اور تجارتی تعاون و تبادلوں کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور چین کے کھلے پن کے عزم اور مختلف ممالک خاص طور پر پسماندہ ممالک یا علاقوں کے ساتھ ترقیاتی مواقع کا اشتراک کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نمائش کنندگان کے لیے کیا لا سکتی ہے ؟ یہ جاننے کے لیے ہم گزشتہ ایکسپوز کی کہانیوں سے کچھ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستانی عقیل احمد جوہری سال 2019 سے سی آئی آئی ای میں شرکت رہے ہیں اور صرف دو سال کے اندر انہوں نے شنگھائی کی سب سے بارونق اسٹریٹ میں اپنی فلیگ شپ شاپ کھول لی ہے۔

حبیب رحمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور چوتھی ایکسپو میں وہ پاکستان کے منفرد ،نمک کے لیمپ لائے تھے اور آدھا دن ہی ہوا تھا کہ ان کے سو سے زائد لیمپس بک چکے تھے۔تجارتی مواقع صرف اس ایکسپو تک ہی محدود نہیں ،بلکہ سی آئی آئی ای دوسرے مواقع پر بھی متعلقہ سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے ۔جیسا کہ شنگھائی میں “ڈبل فائیو”شاپنگ فیسٹیول کے دوران،ایکسپو میں پیش کی گئی تیس سے زائد ممالک اور علاقوں کی مصنوعات کو مقامی شاپنگ سینٹر میں متعارف کروایا گیا جن میں پاکستان سے کشمیری مصنوعات بھی شامل تھیں۔

صنعت کاروں اورتجار کے لیے سی آئی آئی ای نے نہ صرف ایک بڑی چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کی ہے،بلکہ دنیا کے سامنے اپنی مصنوعات پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سی آئی آئی ای مختلف ممالک کے صنعتی و کاروباری اداروں کے درمیان تجربات کے تبادلوں کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی آئی آئی ای میں نہ صرف دنیا کے فارچن 500 صنعتی ادارے،بلکہ چھوٹے یا درمیانے درجے کے نجی ادارے بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ، دونوں اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

چھوٹے یا بڑے ادارے ہوں ،امیر یا غریب ممالک ہوں،سب اپنی مصنوعات اوراپنی مسابقت کی بدولت ایکسپو سے استفادہ کر سکتے ہیں۔مثلاً افریقہ کے مڈغاسکر سے تاجر انڈور نے سال 2020 میں پودوں اور بوٹیوں کے خالص عرق کا اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔حالیہ دنوں ان کے علاقے میں یہ صنعت کافی متاثر ہو رہی ہے لیکن ان کی 70 فیصد مصنوعات چین تک برآمد کی جاتی ہیں اور فروخت میں مسلسل اضافہ ہوتا آرہا ہے۔

رواں سال انہوں نے اپنی مصنوعات کو لے کر سی آئی آئی ای میں پہلی مرتبہ شرکت کی ۔ ایکسپو کے حوالے سے وہ بہت توقعات رکھتے ہوئے چینی مارکیٹ میں اپنے طویل مدتی کاروبار کے لیے بھی پرامید ہیں۔

پانچ نومبر کو سی آئی آئی سی کے ایک اہم حصے ،ہونگ چھیاو بین الاقوامی اقتصادی فورم میں “عالمی کھلے پن کی رپورٹ 2022 “کا اجرا ہوا جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے کھلے پن کی صورتحال میں تبدیلی آرہی ہے،ترقی یافتہ ممالک کا کھلا پن سکڑ رہا ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں کھلے پن کو توسیع دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، چین اعلی معیار کے کھلے پن پر گامزن ہے ،سال 2012 سے سال 2020 تک چین کے کھلے پن کے انڈیکس میں 5.6 فیصد کا اضافہ ہوا جو اقتصادی عالمگیریت کی ایک اہم قوت بن چکا ہے۔دنیا میں قومی سطح کی پہلی درآمدی ایکسپو کی حیثیت سے سی آئی آئی ای، چین کی آزاد تجارت کی حمایت، اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینے اور چینی مارکیٹ کو کھولنے کی اہم پالیسی ہے۔

جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے سی آئی آئی ای کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ” کھلے پن سے خوشحالی کے اشتراک کی جستجو کی جائے”، منصوبے کے مطابق سی آئی آئی ای کا انعقاد چین کے اعلی معیار کے کھلے پن کی توسیع سے عالمی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کا مثبت پیغام ہے۔