اانسداد وبا اقدامات

چین،اانسداد وبا اقدامات میں ترمیم کا مقصد چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، پا کستانی ما ہر صحت

بیجنگ (لاہورنامہ) پاکستانی صحت عامہ کے ماہر بلال احمد نے کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال اور نئی معلومات اور شواہد کی بنیاد پر حکومتوں کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس پر قابو پانے میں لچک دار ہونا چاہیے۔چین کی جانب سے اپنے انسداد وبا اقدامات میں ترمیم کا مقصد ، وبا سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا زیادہ مؤثر طریقے سے جواب دینا ہے ۔

تین سال کے بعد وائرس کمزور ہو چکا ہے ،اور ہم مضبوط ہو گئے ہیں ۔ چینی حکومت ہمیشہ لوگوں کی زندگی اور صحت کے بارے میں فکر مند رہی ہے، اور چینی عوام کے لئے سائنسی پیمانے پر انسداد وبا پالیسیاں اپناتے ہوئے “حفاظتی باڑ” کی تعمیر کی گئی ہے ۔

اس کے نتیجے میں عالمی وبا کی پانچ لہروں کے اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹا گیا ۔ اس دوران ویکسین، ادویات کی تیاری اور علاج و معالجہ کے وسائل کے لئے قیمتی مہلت بھی میسر آئی ۔ آج، وبائی صورتحال میں تبدیلیوں، ویکسینیشن کی مقبولیت اور انسداد وبا کے وافر تجربات کے تناظر میں چین نے پہل کرتے ہوئے اپنے انسدادی اقدامات کی ترتیب نو کی ہے۔

یہ سائنسی، مؤثر اور حقیقت پسندانہ ہے، اور چین اور عالمی معیشت کی بحالی کے لئے بھی سازگار ہے، تاکہ اقتصادی ترقی معمول کی راہ پر واپس لوٹ سکے.

چین نے8 جنوری سے انسداد وبا کے حوالے سے اپنے اقدامات کو “کلاس بی مینجمنٹ “پالیسی کے تحت ایڈجسٹ کیا ہے ، جس کے مطابق چین میں داخل ہونے والے افراد اور سامان کے لئے اجتماعی قرنطینہ سمیت آئیسولیشن کی پالیسی نہیں اپنائی جائے گی ، اس کے ساتھ ہی چینی شہری بیرونی ممالک کی سیاحت کا بھی دوبارہ آغاز کریں گے ۔

یہ چین اور دنیا کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک گزشتہ تین سالوں سے ہمیشہ چین کے سخت انسدادی اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں ،اور اب جبکہ چین نے پالیسیوں میں نرمی سے ملک کو دوبارہ کھولا ہے تو چین پر تنقید میں بھی وہ پیش پیش ہیں، اور چین کے نئے انسدادی اقدامات کو بد نام کر رہے ہیں۔

تو حقیقت کیا ہے؟ وبائی صورتحال میں تبدیلیوں کے پیش نظر چین نے پہل کرتے ہوئے اپنی انسدادی پالیسیوں میں ترمیم ان تین پہلوؤں کے تحت عمل میں لائی ہے: پہلا ، نوول کورونا وائرس میں مسلسل تغیرات کے بعد اس کا پیتھوجین کافی کمزور ہو چکا ہے ۔ دوسرا ، وسیع پیمانے پر ویکسینیشن کے تناظر میں آبادی کی قوت مدافعت کی سطح کو بہت بہتر بنایا گیا ہے۔

تیسرا ، طبی علاج اور ادویات کی تیاری میں ایک خاص مہارت اور صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔ لہذا ، وبا کی روک تھام و کنٹرول اور معاشرتی اور معاشی ترقی کو زیادہ سائنسی اور موثر طریقے سے متوازن کرنے کے لئے ، چین نے انسدادی اقدامات میں ترمیم سے انہیں بہتر بنایا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی چین کے نئے انسدادی اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا اور دنیا چین کے ترقیاتی امکانات کے بارے میں بھی بلند توقعات رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ تین سال قبل جب چین کے شہر ووہان میں کووڈ -۱۹ وبا پھوٹی تھی تو وبا کی انتہائی سنگین صورتحال میں چین نے لوگوں کی زندگیوں اور صحت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اختیار کیے ۔ ملک بھر سے طبی عملے کو ووہان بھیجا گیا ۔ انسانی وسائل سمیت مادی اور مالی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی گئی ۔

تعمیراتی کارکنوں نے دس دن میں 33.9ہزار مربع میٹر کے رقبے پر ایک عارضی ہسپتال تعمیر کیا ، تاکہ ہر مریض کا علاج کیا جا سکے ۔ ووہان نے صرف 3 ماہ کے اندر بنیادی طور پر وبا کے پھیلاؤ کو روکا ، اور یہ لوگوں کو اہمیت دینے اور زندگیوں کے احترام کی ایک واضح مثال ہے ۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران، چین کی انسدادی پالیسی مستحکم اور مستقل رہی ہے، اور صورتحال میں تبدیلی کے تناظر میں وبا کی روک تھام اور کنٹرول اور اقتصادی و سماجی ترقی کے درمیان تعلق کو مؤثر طریقے سے مربوط کیا گیا ہے.متغیر نوول کورونا وائرس کے باعث شدید متاثرہ کیسز اور اموات کی کم ترین شرح کو یقینی بناتے ہوئے چینی حکومت نے اپنی انسدادی پالیسیوں میں بروقت ترمیم کی ، اور بالترتیب “20 دفعات ” اور “نئی دس دفعات ” پر مبنی نئے اقدامات اختیار کئے .

اور آٹھ جنوری سے نوول کورونا وائرس انفیکشن کو “کلاس بی مینجمنٹ ” میں شامل کیا گیا ۔ یوں روک تھام اور کنٹرول کی توجہ انفیکشن کی روک تھام سے طبی علاج کی جانب منتقل ہوگئی ہے اور لوگ اپنی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کی بنیاد پر معمول کی معاشی و معاشرتی زندگی کی جانب واپس لوٹ آ رہے ہیں ۔ چین کے نئے انسدادی اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔